کیس اسٹڈی

کیس اسٹڈی: افغانستان میں خواتین کا کردار

انسانی حقوق و جمہوریت رپورٹ 2013ء میں افغانستان میں خواتین کے کردار پر کیس اسٹڈی.

Baroness Warsi meeting Afghan policewomen in Helmand
Baroness Warsi meeting Afghan policewomen in Helmand

طالبان کے تحت افغانستان میں خواتین کی صورتحال دنیا بھر میں بدترین تھی۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنا ایک طویل مدتی عمل ہے،جس میں لڑکیوں کی تعلیم،معاشی مواقع میں اضافہ اورعورتوں کی نمائندگی مرکزی اہمیت رکھتی ہیں۔ خواتین کے حقوق، سیاسی اورترقیاتی امور، افغانستان میں برطانیہ کے ایجنڈا کا مرکز تھا تاکہ خواتین غربت سے نکل سکیں اور معاشرے میں اپنا مساوی کردارادا کرسکیں۔

اگرچہ ابھی بہت سے مسائل باقی ہیں جیسے کہ جڑوں میں پیوستہ روایتی قدامت پرستانہ اقداراورثقافت، خواندگی کی کم شرح اور گھریلو تشدد، لیکن گزشتہ 12 سال میں زبردست پیش رفت بھی ہوئی ہے:20 لاکھ سے زائد لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں ( باقاعدگی سے اسکول جانے والوں میں لڑکیوں کا تناسب اب 40 فی صد ہے)، جو طالبان کے دور میں صفرتھا۔15 فی صد یونیورسٹی لیکچررخواتین ہیں، اوربرطانیہ اورامریکا کے مقابلے میں پارلیمنٹ میں عورتوں کی تعداد کا تناسب افغانستان میں کہیں زیادہ ہے یعنی 27 فی صد نشستیں خواتین کی ہیں۔

خواتین کے لئے چندرکاوٹیں جہاں دورکر لی گئی ہیں وہاں متعدد سماجی عنصر اب بھی خواتین کومعاشرے میں بھرپورکردارنہیں اداکرنے دیتے اورخواتین کے لئے عالمی تعاون کا جاری رہنا اب بھی ضروری ہےمثلا پارلیمنٹ میں 2013ء میں خواتین پر تشدد کے خاتمے کی روک تھام کے قانون پربحث ہوئی تو کچھ قدامت پرست گروپوں نے موجودہ قانون کومستحکم کرنے کے خلاف شورکیا۔ اسپیکر کو بحث جلد ختم کرنا پڑی لہذا 2009ء کا صدارتی فرمان اب بھی برقرار ہے۔اسی طرح نئے انتخابی قانون میں خواتین کی صوبائی کونسلوں کی تعداد کو 25 فی صد سے گھٹا کر 20 فی صد کردیا گیا۔البتہ پارلیمانی نمائندگی کا 25 فی صد کوٹا ابھی برقرار ہے۔

2014ء کے صدارتی اور صوبائی انتخابات افغان عوام کا ایک اہم امتحان ہیں۔ یہ شہادت موجود ہے کہ کچھ مقامات پر لوگوں کے رویے میں تبدیلی آرہی ہے۔ ہم چھوٹے منصوبوں سے بھی تعاون کرہے ہیں جیسے کہ عورتوں کے انتخابات میں حصہ لینےپردھمکیوں کے اعدادوشماراکھٹا کرنے سے لے کر خواتین ووٹروں اور امیدواروں کے مسائل۔ منتخب ملاؤں اورروایتی رہنماؤں کے ساتھ کام کرکے انتخابات اور سیاست میں خواتین کی زیادہ شرکت کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی ہے اورسیاسی پروگراموں سے ملک بھر میں انتخاباتی عمل میں خواتین کی شرکت کی اہلیت بہتر بنانے میں مدد ملی ہے خواہ وہ انفرادی امیدوار کی حیثیت میں ہو یاسیاسی پارٹیوں میں۔یہ کام انتخابات کے بعد رکے گا نہیں،خواتین کونسلروں کو ابتدائی سال میں تربیت اور تعاون فراہم کیا جاتا رہے گا ۔

اس وقت ملک میں خواتین کی 1 فی صد سے بھی کم تعداد پولیس میں کام کرتی ہے، عورتوں کے لئے پولیس میں جانا ایک پرکشش انتخاب نہیں ہے کیونکہ یہ کام کے لئے محفوظ ماحول نہیں فراہم کرتا۔ اس کیس اسٹڈی کے تحریر کئے جانے کے وقت وزیر داخلہ موجودہ سال کے خاتمے تک 10000 خواتین کی افغان قومی پولیس میں بھرتی کا پرعزم منصوبہ بنارہے تھے۔ حال میں خواتین کی اعلی عہدوں پر تعیناتی کے باوجود –مثلا افغانستان کی پہلی ضلع پولیس چیف خاتون کا کابل میں تقرر- سیکیورٹی سروسز میں خواتین کے بامعنی کردار ادا کرنے کے لئے ان کی تربیت اور محفوظ ماحول کی تشکیل اوراس کی برقراری کے لئے مزید کام باقی ہے۔ ان عوامی عہدوں پر مزید خواتین کی موجودگی سے آخرکار یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ خواتین افغان معاشرے میں نسوانی مقام کو بہتر بنانے میں مدد دیں گی۔ .

یہ کیس اسٹڈی حصہ ہے انسانی حقوق و جمہوریت رپورٹ 2013ءکا

Published 10 اپریل 2014