تقریر

" افغانستان کے لئے 2014ء مواقع سے بھراہوا ہے"

اقوام متحدہ میں یوکے مشن کے سفیرلائل گرانٹ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سہ ماہی بحث میں تقریرکے اقتباسات

This was published under the 2010 to 2015 Conservative and Liberal Democrat coalition government

afghan family

'’یہ سلامتی کونسل کے لئے پہلا موقع ہے نمائندہ خصوصی جین کوبز اور ان کی ٹیم کے سامنے براہ راست اس دکھ کے اظہار کا جو ہم سب نے 17 جنوری کو اقوام متحدہ کے 4 ساتھیوں کی جانوں کے المناک زیاں پر محسوس تھا۔یہ دہشتناک حملہ ان خطرات کی یاددہانی ہے جو عالمی شہری عملہ کو درپیش ہے اور ہم آپکی اور آپ کی ٹیم کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہین مسٹر کوبزجو آپ افغانستان میں انجام دے رہے ہیں۔

برطانیہ آج کی قرارداد کا خیر مقدم کرتا ہے جو مناما کے مینڈیٹ کی تجدید کرتا ہے، مناما افغانستان میں امن کی تعمیر میں ناگزیر کردار ادا کرتا ہےاور 2014ء تک اس کا یہ کردار جاری رہے گا۔

میں آج اپنا بیان چاراہم نکات تک محدود رکھونگا:سیکیورٹی، انتخابات، ٹوکیو باہمی احتسابی فریم ورک اورافغانستان میں اقوام متحدہ کے آئندہ روابط ۔

پہلا- سیکیورٹی کی صورتحال

ہمیں اپنی کامیابیوں پر فخرکرنا چاہئیے۔آئیساف اورافغان نیشنل سیکیورٹی فورسزکے عزم اور ان کے اپنے آپ کو وقف کرنے سے افغان حکومت کو ایک مستحکم اورجمہوری ملک کی تعمیر کا موقع مل سکا ہے۔

اے این ایس ایف نے 2013ءمیں افغانستان کی سلامتی کی مکمل ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد سے کئی مشکل چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ اور اس رائے شماری سے بھی ہماری حوصلہ افزائی ہوتی ہے جس میں ان کے کام پراعتماد ظاہر ہورہا ہے۔ اس سال جون میں آفیسر کیڈٹس کی تمام خواتین یونٹس کی پہلی تربیت شروع ہونے کی توقع ہے۔ اور یہ ایک اوراہم کامیابی ہے۔

تاہم ہم جانتے ہیں کہ نیٹو اورعالمی برادری افغانستان میں طویل المدت سلامتی کے لئے ناگزیر رہے گا۔ اپنے پائیدار کمٹ منٹ کے اظہار کے لئے برطانیہ 100ملین ڈالر سالانہ 2017ء تک افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کے لئے فراہم کرتا رہے گا۔

دوسرا - انتخابات اور سیاسی منتقلی

افغانستان میں انتخابی مہم اور تیکنیکی تیاریوں کا آخری مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ صدارتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات اب 4 ہفتے دوررہ گئے ہیں۔ افغان سیاست کے لئے یہ ایک انقلابی لمحہ ہےکیونکہ افغان اب تغیراتی عشرے میں داخل ہورہے ہیں۔

شفافیت اورسب کی شمولیت ان انتخابات کے معتبر ہونے کے لئے لازمی ہیں۔ اس ضمن میں ہم یورپی یونین کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ وہ الیکشن اسسیسسمنٹ ٹیم افغانستان بھیجے گی۔ برطانیہ، افغان حکومت کی حوصلہ افزائی کررہا ہے کہ وہ تمام انتخاباتی مبصرین کو انتخابی عمل تک ضرورت کے مطابق رسائی دےتاکہ وقت آنے پراس عمل کے بارے میں معلوماتی رپورٹس دے سکیں۔

تیسرا- ٹوکیو باہمی احتسابی ورک پر اگلا قدم

اس فریم ورک پر 2012ء میں اتفاق ہوا تھا اور یہ افغانستان میں ترقیاتی کام کے لئے عالمی برادری کا بلیوپرنٹ ہے۔

ترجیحی شعبوں میں پیش رفت جیسے کہ خواتین کا کردار طویل المدت ترقی اورعطیات کی برقراری کے لئے ضروری ہے۔ ہم آنے والے مہینوں میں پیش رفت کی نگرانی، ربط اور رپورٹنگ میں مناما کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے، اس کی حوصلہ افزائی آج کی قرارداد میں کی گئی ہے۔

آخری بات یہ کہ برطانیہ افغانستان میں اقوام متحدہ کی مضبوط موجودگی کی حمایت کرتا ہے۔ اگلے سال اقوام متحدہ کا ایک لازمی کردار ہوگا وہ حکومت افغانستان کے ساتھ مل کر ان کامیابیوں کو آگے بڑھائیگی جو گزشتہ عشرے میں عالمی برادری نے وہاں حاصل کی ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے پاس وہ ذرائع ہوں جس سے وہ ملک بھر میں موجودگی برقرار رکھ سکے اور آج کے مینڈیٹ کے مطابق اپنی ذمے داریاں پوری کرسکے۔ لیکن ہم اقوام متحدہ اوراس کی ایجنسیوں پر زور دیں گےکہ وہ 2014ء کے بعد کے ماحول میں مواقع کی نشاندہی اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئےنیٹو اوردیگر متعلقہ تنظیموں کے ساتھ مزید قریبی تعاون سے کام کریں اوروسائل میں حصہ داری کریں۔

افغانستان کے لئے اور اقوام متحدہ کے لئے ایک بڑا چیلنج انسانی حقوق خاص طور سے عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق ہیں۔ افغانستان میں عورتوں اور لڑکیوں کے حقوق بدستور بڑا مسئلہ ہیں اور اس ضمن میں جو کامیابی ہوئی ہے وہ نازک ہے۔

افغانستان تیزی سے بدل رہا ہے،اس کی معیشت نمو پزیر ہے، آبادی جوان ہےاوربیرونی دنیا کے سماجی میڈیا کی بدولت اس میں انقلاب آرہا ہے۔ لہذا بے شمار مسائل کے باوجود 2014ء افغانستان کے لئے مواقع سے بھرا ہوا سال ہے۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ تمام افغانوں کے لئے پرامن تر، مزید جمہوری اور خوشحال مستقبل کی جدوجہد میں افغانستان کی حکومت کی مدد کریں گے۔

Published 17 مارچ 2014