کیس اسٹڈی

''اس اسکالر شپ سے میرے ڈاکٹر بننے کا خواب پورا ہوسکے گا اورمیں اپنے خاندان کی مدد کرسکونگی''

برطانیہ کی مدد سے پاکستان میں لڑکیوں کواعلی تعلیم حاصل کرنے اور اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع مل رہا ہے.

Girls in secondary school. Education is beneficial for girls since each extra year of schooling can help increase their wages by up to 20%.
Girls in secondary school. Picture: Mark Hakansson/Panos

15 سالہ ایمن پاکستان کےضلع ڈیرہ غازی خان کے ایک گاؤں میں رہتی ہے۔ وہ جنوبی پنجاب کے غریب تریں ضلعوں کی ان 7500لڑکیوں میں سے ایک ہے جنہیں برطانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی جانب سےاس سال اسکالر شپ ملا ہے، اسے یوکے ایڈ نے فنڈ دئیے ہیں تاکہ وہ اپنی انٹرمیڈیٹ کی (اے لیول کے مساوی) تعلیم مکمل کرسکیں.

پاکستان میں خواتین کی تقریبانصف تعداد کبھی اسکول نہیں گئی جبکہ کام کے قابل 6 کرور خواتین کی دو تہائی تعداد لکھ پڑھ نہیں سکتی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں 90 لاکھ سے زائد لڑکیاں اسکول نہیں جاتیں.

تعلیم حاصل کرنے کا جنون

ایمن تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے۔ اس کے والد گھرکےتنہا کفیل ہیں جو مزدوری کرکے 300 روپے روز( تقریبا ڈیڑھ پاؤنڈ) کماتے ہیں.

'’میرے والد کی آمدنی میں گھر کا خرچ ہی مشکل سے پورا ہوتا ہے تو تعلیم کا بوجھ اٹھانا تو بہت مشکل ہے۔ لیکن مالی تنگی کے باوجود میرے والدین ہم سب کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عرصے تک جاری رکھنے کی لگن رکھتے ہیں، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ہم تعلیم جیسے شاندارہنرسے محروم رہ جائیں.’’

ایمن ایک غیرمعمولی اوربہت محنت کرنے والی طالبہ ہے اور ہمیشہ اپنی کلاس میں سب سے آگے رہنے والوں میں شامل رہی۔ یہ سلسلہ میٹرک تک چلا جہاں اس نے ضلع میں ٹاپ کیا.

'’میں دھیرے دھیرے اپنی تعلیم میں زیادہ دلچسپی لینےلگی اور ہرایک کی توقع سے آگے بڑھ گئی۔ اس دوران میں اپنے خاندان کی میٹرک کرنے والی پہلی لڑکی بن گئی ۔ لیکن جب اس کامیابی کی خوشی کم ہوئی تو یہ معلوم ہوا کہ مجھے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے کوئی معجزہ درکار ہوگا،’’ ایمن نے کہا.

'’اسکول میری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا اورمیں اسکول نہ جانے کا تصور تک نہیں کر سکتی تھی۔ اور مضامین بھی اب زیادہ دلچسپ ہوگئے تھے۔ میں آگے بڑھنے کا عزم رکھتی تھی تب ایک صبح وہ معجزہ نمودار ہو ہی گیا۔’’.

Aimen is one of 7,500 girls from across 11 of the poorest districts in southern Punjab to receive scholarships funded by UK aid to complete their intermediate education.
Aimen is one of 7,500 girls from across 11 of the poorest districts in southern Punjab to receive scholarships funded by UK aid to complete their intermediate education. Picture: DFID Pakistan

نئے مواقع

ایمن کو پنجاب ایجوکیشن اینڈاؤمنٹ فنڈ کی جانب سے خط ملا کہ وہ اسکالر شپ کے لئے درخواست دے۔ یہ انی شئیٹو پنجاب حکومت نے 2008ء میں شروع کیا تھا۔ یہ اسکالرشپ برطانیہ فراہم کرتا ہے اور اس سے 27500 لڑکیاں اگلے 6 سال میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گی۔اس پروگرام کامقصد پسماندہ طبقوں کی اعلی کارکردگی کی حامل لڑکیوں کو اسکالر شپ دینے کے لئے ہے تاکہ وہ مالی تنگی کے باوجود اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں.

ایک جامع درخواستی عمل کے بعد جس میں مالی حالات اور پس منظر سے متعلق چھان بین شامل تھی، ایمن کو اسکالرشپ کے لئے منتخب کر لیا گیا.

'’یہ اسکالرشپ مجھے کتابوں کی قیمت، فیس اور آنے جانے کا خرچ فراہم کرکے اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کرے گا اورمیرے خاندان پر بوجھ نہیں پڑے گا۔ اس سے میرے ڈاکٹر بننے کے خواب کی تعبیر مل سکے گی اورمیں اپنے خاندان کی مالی مدد کرسکونگی۔’’ طلبہ کا انتخاب 2 سال کے لئے ہوتا ہے اورانہیں ماہانہ 3000 روپے (تقریبا 17پاؤنڈ) ملتے ہیں۔ اسکالرشپ براہ راست طلبہ کو الیکٹرانک منتقلی کے ذریعے ملتے ہیں اوربد عنوانی نہیں ہونے پاتی.

Published 28 مارچ 2014