تقریر

خطرے کی غیرمعمولی نوعیت غیرمعمولی جوابی کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔

سکریٹری داخلہ نے دہشت گردی کی ہر قسم کو شکست دینے کے بارے میں سربراہی اجلاس میں تقریر کی ہے جسے وائٹ ہاؤس اوریو ایس ڈیپارٹمنٹ آف اسٹیٹ نےمنعقد کیا تھا.

This was published under the 2010 to 2015 Conservative and Liberal Democrat coalition government

The Rt Hon Theresa May MP

سکریٹری داخلہ تھریسا مے نے کہا:

میں آج چارمختصرنکات پربات کرونگی۔ پہلا دہشت گردی کے خطرے کی نوعیت پرہے۔

یہ کہنے کی تو ضرورت نہیں کہ یہ خطرہ مختلف ملکوں میں مختلف نوعیت کا ہے لیکن آج کے واقعات کی سطح سے پتا چلتا ہے کہ اس سے اب ہم سب کی زندگی پراثر پڑرہاہے۔ اس کے ساتھ ہی مزید ملک اپنے ہاں انفرادی دہشت گردوں کی حقیقت کا سامنا کررہے ہیں جو بنیاد پرستی کا شکار ہوکےاپنے ہی وطن میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں۔

ہماری جوابی کارروائی کو دنیا بھر کے لحاظ سےجامع، موثراورمتعلقہ ہونا چاہئیے۔

درحقیقت یہ لازمی ہے کہ ہماری جوابی کارروائی اپنے ملک میں اوربیرون ملک واضح اوریکساں ہوکیونکہ جب بنیادپرستی کی بات ہو، دہشت گردوں کا مواصلاتی طریقہ کار ہوتو داخلی اوربین الاقوامی خطرات کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا۔ میرا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ محض متشدد انجام پرتوجہ مرکوز کرنا کافی نہیں۔ ہمین دہشت گردی کے پورے اسپیکٹرم کو دیکھنا ہے اوراس میں دوسرے پہلوؤں کے ساتھ ہماری مواصلاتی جوابی کارروائی بھی آجاتی ہے۔

میرا مطلب یہ ہے کہ یہ کافی نہیں کہ صرف دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مواصلات پرتوجہ رکھی جائے۔ ہمیں دہشت گردی کی تمام اقسام پرتوجہ دینا چاہئیے: غیرمتشدد اورپرتشدد، ثقافتی روایات کی بنیاد پردہشت گردی اورنظریات کی بنا پر دہشت گردی، اسلامی انتہا پسندی یا نیونازی انتہا پسندی۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ کارروائی صرف ‘‘جوابی بیانیہ’’ نہیں، یہ مثبت اقدار کے پورے مجموعے کا فروغ ہے، ان اقدار کاجو بتاتی ہیں کہ ہم کون ہیں اورکس کے ساتھ ہیں۔ ہم جن اقدارپریقین رکھتے ہیں ان کے فروغ میں ہمیں انتہا پسندوں کے لئے ان کی شرائط پرنہیں بلکہ اپنی شرائط کے مطابق حدود اورپابندیاں متعین کرنا ہونگی۔

انتہا پسند اکثر ‘‘وہ’’ اور ‘‘ہم’’ کی بات کرتے ہیں جس کا مطلب اکثرمغرب اوراسلام کے درمیان جنگ سے لیا جاتا ہے لیکن ہم اس کو کامیابی سےچیلنج نہیں کرتےیا کرتے ہیں تو وہ کافی نہیں ہوتا۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ ہم اس اہم پیغام کو بھیجنے میں اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب ہم شراکت داری میں کام کریں، وہ شراکت داری جو حکومت، شہری معاشرے اورصنعت کےدرمیان ہو۔

برطانیہ میں ہم نے کئی اہم مواصلاتی مہموں سے تعاون کیا ہے۔ ہم لوگوں کو مختلف قسم کے ماہرین اور مشوروں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ ہم شہری معاشرہ گروپوں کو اپنا پیغام بھیجنے کے لئےصحیح وقت پردرست آلات تک دسترس کو یقینی بناتے ہیں۔

سوشل میڈیا مہارت کے لئے یہ اوربھی ضروری ہے۔ لیکن یہ مہارت حکومت حتی کہ شہری معاشرے میں بھی نہیں بلکہ صنعتی شعبے میں پائی جاتی ہے۔

جبکہ انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا کمپنیوں پر دہشت گردانہ اورانتہا پسندانہ مواد کا آن لائن حجم ایک سنگین چیلنج پیش کررہا ہے۔اسی لئے ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ انٹرنیٹ صنعت اس شراکت داری میں اپنا کردار ادا کرے۔

جب دہشت گرد ان کے سسٹم کو استعمال کریں تو تمام کمپنیوں کو چاہئیے کہ وہ ان کے باب میں صفررواداری کا طریقہ کاراپنائیں۔

مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ان کی سماجی ذمے داری ہے کہ ان کے پلیٹ فارم انتہاپسندی یا دہشت گردی کے مقاصدکے لئے استعمال نہ ہوں۔

اور اب میرا چوتھا اور آخری نکتہ۔

اگر ہم چند سال پیچھے مڑ کر داعش سے پہلے کے خطرات کی طرف دیکھیں تو سوچئیے کہ اگر ہم آج حرکت میں نہ آئیں تو اگلے چند برس میں کیا کچھ ہوسکتا ہے ۔ تصور کیجئیے کہ اگر ہم نے آج کوئی اقدام نہ کیاتو داعش مزید بھیانک اورغیر انسانی شکل میں ڈھل سکتی ہے یا زیادہ استعداداور وسیع رسائی سے اور بھی طاقتور بن سکتی ہے ۔ ہمارے پاس کوئی اورراستہ نہیں ، ہم میں سے کوئی آج یہاں سے یہ سوچتا ہوا نہیں جاسکے گا کہ کوئی دوسرا تو کر ہی رہا ہوگا۔

اسی طرح ہم یہ بھی نہیں سوچ سکتے کہ اگر ہم نے اپنے ملک میں اسے ٹھیک کرلیا تو کام ہوجائیگا۔

خطرے کی غیر معمولی نوعیت غیر معمولی جوابی کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔

یہ کارروائی بین الاقوامی وسعت کی ہو، اس کا پیمانہ بے مثال اوراقدام فوری ہو۔

لہذا میرا آخری پیغام یہ ہے کہ ہمیں حرکت میں آنا ہے، ہمیں مل کرحرکت کرنا ہے اور ہمیں فورا حرکت میں آنا ہے.

Published 20 فروری 2015