Skip to main content
رہنمائی

سِکل سیل اور تھیلسیما (Urdu)

اپ ڈیٹ کردہ 3 جون 2026

Applies to England

یہ مختصر ویڈیو حمل کے دوران سِکل سیل اور تھیلیسیمیا کی اسکریننگ کی وضاحت کرتی ہے۔

سِکل سیل اور تھیلسیما

اسکریننگ کا مقصد

ہم حمل کے دوران سِکل سیل اور تھیلیسیمیا کی اسکریننگ اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا آپ میں ان میں سے کسی عارضے کے جین موجود ہیں یا نہیں۔ اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کیا آپ کے بچے میں

یہ عارضہ منتقل ہونے کا امکان ہے۔

اِن بیماریوں کے بارے میں

سکل سیل (SCD) اور تھیلیسیمیا بڑی اور سنگین خون کی موروثی بیماریاں ہیں۔ یہ ہیموگلوبن پر اثر انداز ہوتی ہے جو خون کا وہ حصہ ہے جو پورے بدن میں آکسیجن لے کر جاتا ہے۔ ان امراض میں مبتلا افراد کو ساری زندگی خصوصی نگہداشت کی ضرورت رہے گی۔

SCD کا شکار افراد کو شدید درد کے ساتھ سنگین، زندگی کے لئے خطرہ بننے والی بیماریاں ہوجاتی ہیں اور وہ عموماً اینیمک (خون کی کمی کا شکار) (ان کے جسم کو آکسیجن استعمال کرنے میں مشکل ہوتی ہے) ہوتے ہیں۔ SCD میں مبتلا بچوں کا ابتدا میں ہی علاج ہو سکتا ہے بشمول حفاظتی ٹیکوں اور اینٹی بائیوٹکس، جو بیماریوں کی روک تھام میں مدد کرے گا اور بچوں کو صحتمند زندگی گُزارنے کی اجازت دے گا۔

تھیلیسیمیا والے افراد میں خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ انہیں ہر 3 سے 5 ہفتے بعد خون کی منتقلی، انجکشن

اور دواؤں کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو زندگی بھر جاری رہ سکتی ہے۔

اسکریننگ سے کم عام اور کم سنگین ہیموگلوبن کی بیماریاں بھی پتا چل سکتی ہیں۔

سِکل سیل بیماری  (SCD) اور تھیلاسیمیا موروثی بیماریاں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ بیماریاں حقیقی والدین سے بچوں میں غیر معمولی ہیموگلوبن جینز کے ذریعے منتقل ہوتی ہیں۔ جینز ہمارے جسم میں وہ کوڈ ہوتے ہیں جو آنکھوں کے رنگ اور خون کے گروپ جیسی چیزوں کے لئے ذمہ دار ہیں۔ جینز جوڑیوں میں کام کرتے ہیں۔ جو کچھ ہم اپنے والدین سے وراثت میں لیتے ہیں اس کے لئے ہمیں ایک جین حقیقی ماں سے اور ایک جین حقیقی باپ سے ملتا ہے۔

لوگوں کو صرف اسی وقت سِکل سیل بیماری یا تھیلاسیمیا ہوتا ہے جب وہ 2 غیر معمولی ہیموگلوبن جینز وراثت میں لیں۔ ایک جین حقیقی ماں سے اور ایک جین حقیقی باپ سے آتا ہے۔ جو لوگ صرف ایک غیر معمولی جین وراثت میں لیتے ہیں انہیں ‘کیریئر یعنی حامل مرض’ کہا جاتا ہے. (کچھ لوگ اسے ‘خصوصیت’ رکهنا بھی کہتے ہیں)۔ کیریئر صحت مند ہوتے ہیں اور انہیں یہ بیماری نہیں ہوتی۔ کیریئر کو صرف نایاب حالات میں صحت کے مسائل ہو سکتے ہیں جب ان کے جسم کو کافی آکسیجن نہ ملے۔ مثال کے طور پر، اگر وہ بے ہوشی کی دوا کے ساتھ آپریشن کروا رہے ہوں۔

کوئی بھی شخص غیر معمولی ہیموگلوبن کا کیریئر ہو سکتا ہے۔ تاہم، کیریئرز دنیا کے کچھ حصوں میں خاندانی اصلیت والے لوگوں میں زیادہ عام ہیں۔ ان میں افریقہ، کیریبین، بحیرہ روم، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا، اور مشرق وسطیٰ شامل ہیں۔

جب دونوں حقیقی والدین کیریئر ہوں تو بچے کے لئے:

  • 4 میں سے 1 (%25) امکان ہے کہ اسے یہ بیماری نہ ہو
  • 4 میں سے 1 (%25) امکان ہے کہ وہ دونوں غیر معمولی ہیموگلوبن جینز لے اور یہ بیماری ہو
  • 4میں سے 2 (%50) امکان ہے کہ وہ 1 غیر معمولی ہیموگلوبن جین لے اور کیریئر ہو

خاکہ یہ دکھاتا ہے کہ اگر دونوں والدین کیرئر ہوں تو بچے میں ہوموگلوبن کی بیماری ہونے کا 4 میں 1 امکان ہوتا ہے، کیرئر ہونے کے 4 میں سے 2 امکانات ہوتے ہیں اور متاثر نہ ہونے کا 4 میں سے 1 امکان ہوتا ہے

سکریننگ ٹیسٹ

حمل کے دوران اسکریننگ میں خاندانی اصلیت کے سوالات (FOQ) مکمل کرنا اور ایک سادہ خون کا ٹیسٹ شامل ہوتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ خون کا ٹیسٹ اس وقت تک ہو جائے جب آپ کو حمل کے 10 ہفتے ہوں۔

FOQ خاندانی اصلیت کے سوالات آپ کے خاندان کی اصل اور بچے کے حیاتیاتی والد کے بارے میں ایک سوالنامہ ہے۔ یہ کم از کم دو نسلوں تک پیچھے جاتا ہے۔

خاندانی پس منظر کے سوالنامہ (FOQ) کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا آپ یا بچے کے حقیقی باپ کا تعلق ان ملکوں سے ہے جہاں SCD اور تھیلاسیمیا زیادہ پائے جاتے ہیں۔

انگلینڈ میں تمام حاملہ خواتین کو تھیلاسیمیا چیک کرنے کے لئے خون کا ٹیسٹ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم تمام خواتین کو سِکل سیل چیک کرنے کے لئے خون کا ٹیسٹ خود بخود نہیں پیش کیا جاتا۔ سِکل سیل کی اسکریننگ اس وقت پیش کی جاتی ہے جب خاندانی پس منظر کا سوالنامہ  (FOQ) یہ ظاہر کرے کہ آپ کے کیریئر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ یہ اس وقت بھی پیش کی جا سکتی ہے اگر آپ ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جہاں ہیموگلوبن کی بیماریاں زیادہ عام ہیں۔

آپ خون کا ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کر سکتی ہیں چاہے آپ کا خاندانی پس منظر کا سوالنامہ  (FOQ)یہ نہ بتائے کہ آپ کے کیریئر ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

ٹیسٹ کی حفاظت

اسکریننگ ٹیسٹ آپ کو یا آپ کے بچے کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تاہم یہ بہت ضروری ہے کہ آپ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ یہ ٹیسٹ کروانا ہے یا نہیں۔ اسکریننگ ٹیسٹ معلومات فراہم کر سکتا ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ کو مزید اہم فیصلے کرنے ہیں۔ مثال کے طور پر، آپ کو مزید تشخیصی ٹیسٹ پیش کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں کوریونک ویلس سیمپلنگ (CVS) یا امنیوسنٹسس شامل ہو سکتے ہیں۔

سکریننگ آپ کا انتخاب ہے

آپ کے لیے سکریننگ ٹیسٹ کروانا ضروری نہیں ہے۔ کچھ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بچےکو سکل سیل تھیلیسیمیا لاحق ہے یا نہیں اور کچھ لوگ ایسا نہیں چاہتے۔

ٹیسٹ نہ کروانا

اگر آپ حمل میں اسکریننگ ٹیسٹ نہ کروانے کا انتخاب کرتی ہیں، تو آپ کا بچہ SCD کی اسکریننگ نوزائیدہ کے خون کے دھبوں کی اسکریننگ ٹیسٹ کے حصے کے طور پر کر سکتا ہے۔ یہ ٹیسٹ بچے کی 5 دن کی عمر میں کیا جاتا ہے۔

ممکنہ نتائج

اسکریننگ کا ٹیسٹ آپ کو بتائے گا کہ آیا آپ کو ہیموگلوبن کی کوئی بیماری ہے۔ یہ یہ بھی بتائے گا کہ آپ کیریئر ہیں یا نہیں۔

تشخیصی ٹیسٹ (کوریونک ویلس سیمپلنگ یا ایمنیو سینٹیسس)

تشخیصی ٹیسٹ ایک یقینی جواب پیش کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ نال کے خلیوں یا آپ کے بچے کے گرد موجود پانی کا نمونہ لیتے ہیں.

اگر آپ ہیموگلوبن کی بیماری کے کیریئر ہیں تو آپ کے بچے کے حقیقی باپ کو خون کا ٹیسٹ پیش کیا جائے گا۔ اگر آپ کے بچے کا حقیقی باپ بھی کیریئر ہو تو آپ کو تشخیصی ٹیسٹ کی پیشکش کی جائے گی۔ یہ ٹیسٹ یہ پتا لگائے گا کہ آیا آپ کے بچے کو یہ عارضہ لاحق ہے یا نہیں۔

اگر آپ کے بچے کا حیاتیاتی والد دستیاب نہیں اور آپ کیریئر ہیں، تو آپ کو  ایک  تشخیصی ٹیسٹ کی پیشکش کی جائے گی۔

جن خواتین کا تشخیصی ٹیسٹ ہوتا ہے 200 میں سے تقریباً 1 کو ٹیسٹ کی وجہ سے اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ تشخیصی ٹیسٹ کرواتی ہیں یا نہیں۔

تشخیصی ٹیسٹ کی 2 قسمیں ہیں: کوریونک ویلس سیمپلنگ (CVS) اور ایمنیو سینٹیسس۔

کوریونک ویلس سیمپلنگ (CVS)

یہ عام طور پر حمل کے 11 سے 14 ہفتوں میں کیا جاتا ہے لیکن بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایک باریک سوئی استعمال کی جاتی ہے تاکہ نال (پلیسینٹا) سے چھوٹا سا ٹشو لیا جا سکے۔ یہ سوئی عام طور پر عورت کے بطن (پیٹ) کے ذریعے ڈالی جاتی ہے۔ نال کے خلیوں کو ان بیماریوں کے لئے ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے جن کی چھان بین کی جاتی ہے۔

ایمنیو سینٹیسس

ایمنیوسینٹیسس عموماً حمل کے 15 ہفتوں بعد کیا جاتا ہے۔ ایک باریک سوئی ماں کے پیٹ میں سے رحم میں ڈال کر ایک تھوڑا سا نمونہ اس مائع کا لیا جاتا ہے جس میں بچہ گھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس مائع میں بچےکے کچھ خلیے ہوتے ہیں، جنہیں SCD یا تھیلیسیمیا کے لئے ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔۔ اس مائع میں بچے کے کچھ خلیے ہوتے ہیں جنہیں بیماریوں کے لئے ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔

تشخیصی ٹیسٹس کے امکانی نتائج

اگر نتیجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے بچے کو SCD یا تھیلیسیمیا ہے، تو آپ کو جینٹک کاؤنسلر سے ملاقات کی پیشکش کی جائے گی۔ وہ آپ کو سمجھا سکتے ہیں کہ اس کا آپ کے بچے کے لئے کیا مطلب ہے اور آپ کو کونسے آپشنز حاصل ہیں۔

کچھ بیماریاں دیگر سے زیادہ سنگین ہوتی ہیں۔ کچھ خواتین حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ دیگر حمل جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کرتی ہیں اور حمل ساقط کروا لیتی ہیں۔

اگر آپ کو یہ انتخاب کرنے کی ضرورت ہو تو فیصلہ کرنے میں آپ کی مددکے لیے آپ کو بیماری اور نگہداشت صحت کے پیشہ ور افراد کی جانب سے اعانت کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوگی۔ سپورٹ گروپز سے بھی معلومات دستیاب ہیں۔

اگر ٹیسٹ سے پتہ چلےکہ آپ ایک حامل ہیں،تو امکان ہے کہ آپ کے خاندان کا کوئی اور افراد بھی حامل ہو سکتے ہیں۔ آپ کو چاہئیے کہ انہیں ٹیسٹ کروانےکا مشورہ دیں، خصوصاً اگر وہ بچہ پیدا کرنا چاہ رہے ہیں۔