Skip to main content
رہنمائی

پیٹ کی دیوار کے نقائص: ایکسومفالوس کے بارے میں والدین کے لیے معلومات (Urdu)

اپ ڈیٹ کردہ 13 جولائی 2026

Applies to England

جائزہ

اگر آپ کے بچے میں آپ کے 20-ہفتوں کے اسکین (جسے بعض اوقات حمل کے درمیانی مرحلے کا سکین بھی کہا جاتا ہے) کے بعد ایکسومفالوس (Exomphalos اِکس-اوم-فے-لوس)  ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہو جس میں بچے کی آنتیں یا دوسرے اعضا پیٹ سے باہر ہوتے ہیں تو یہ معلومات آپ کی مدد کرے گی۔

اسے بعض اوقات اومفالوسیل (Omphalocele اوم-فہ-لہ-سیل)  بھی کہا جاتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ معلومات آپ اور آپ کے صحت کے ماہرین کو آپ کی اور آپ کے بچے کی دیکھ بھال کے اگلے مراحل پر بات کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔

یہ معلومات آپ کی مدد اور رہنمائی کے لیے ہیں، لیکن یہ ان بات چیتوں کا متبادل نہیں ہیں جو آپ صحت کے ماہرین کے ساتھ کریں گے۔ یہ جان کر کہ آپ کے بچے کی نشوونما میں کوئی مسئلہ ہو سکتا ہے، آپ کے لیے تشویش اور پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ آپ اکیلے نہیں ہیں۔

ہم آپ کو ماہرین کی ایک ٹیم کے پاس بھیجیں گے جو اپنی پوری کوشش کرے گی کہ:

  • آپکے بچے کے عارضے اور علاج کے بارے میں مزید درست معلومات فراہم کریں
  • آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دیں
  • اگلے اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے میں آپ کی مدد کریں

ایکسومفالوس کے بارے میں

ایکسومفالوس پیٹ کی دیوار (پیٹ کی بیرونی دیوار) کا ایک نقص ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے کی پیٹ کی دیوار رحمِ مادر میں مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتی۔

تمام حملوں کے ابتدائی مرحلے میں بچے کی آنتیں نال کے اندر نشوونما پاتی ہیں۔ عام طور پر چند ہفتوں بعد وہ پیٹ کے اندر منتقل ہو جاتی ہیں۔

ایکسومفالوس والے بچوں میں آنتیں (اور بعض اوقات دوسرے اعضا، جیسے جگر) نال کے اندر ہی رہ جاتے ہیں اور معمول کے مطابق پیٹ کے اندر منتقل نہیں ہوتے۔

وجوہات

ہمیں بالکل معلوم نہیں کہ ایکسومفالوس کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ یہ کسی ایسی بات کی وجہ سے نہیں ہوتا جو آپ نے کی ہو یا نہ کی ہو۔ یہ اکثر دیگر طبی مسائل سے منسلک ہوتا ہے، مثلاً وہ مسائل جو آپ کے بچے کے کروموسومز (جینیاتی معلومات) یا دل کو متاثر کرتے ہیں۔ آپ اپنی انفرادی صورتحال کے بارے میں ماہرین کی ٹیم سے بات کر سکیں گی۔

ایکسومفالوس ہر 10,000 بچوں میں تقریباً 4 بچوں (%0.04) میں ہوتا ہے۔

ایکسومفالوس والے بچے کی تصویر جس میں آنتیں، جگر اور دیگر اعضا پیٹ کے باہر موجود دکھائے گئے ہیں۔

ایکسومفالوس کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے

ہم 20-ہفتے کے سکین (حمل کے 18+0 سے 20+6 ہفتوں کے درمیان) میں ایکسومفالوس کی جانچ کرتے ہیں۔ کبھی کبھار ہمیں یہ پہلے کیے جانے والے سکین میں بھی نظر آ جاتا ہے، جو عموماً حمل کے تقریباً 12 ہفتوں پر کیا جاتا ہے۔

مزید معائنے اور اپوائنٹمنٹس

چونکہ سکین کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے بچے کو ایکسومفالوس ہے، اس لیے ہم آپ کو ایسے ماہرین کی ٹیم کے پاس بھیج رہے ہیں جو حاملہ ماؤں اور ان کے پیدا ہونے سے پہلے بچوں کی دیکھ بھال میں مہارت رکھتی ہے۔ وہ اس ہسپتال میں ہو سکتے ہیں جہاں آپ فی الحال قبل از پیدائش کی دیکھ بھال حاصل کر رہی ہیں، یا کسی دوسرے ہسپتال میں۔ یہ یقینی طور پر معلوم کرنے کے لیے کہ آیا آپ کے بچے کو یہ عارضہ لاحق ہے یا نہیں آپ کو دوسرے اسکین کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین کی ٹیم اس بات کی تصدیق کر سکے گی کہ آیا آپ کے بچے کو ایکسومفالوس ہے اور اس کے کیا ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں۔

ٹیم سے ملاقات سے پہلے یہ مفید ہو سکتا ہے کہ آپ وہ سوالات لکھ لیں جو آپ ان سے پوچھنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کی ٹیم آپ کو اضافی ٹیسٹ کی پیشکش کر سکتی ہے، جیسے کہ کوریونک ویلس سیمپلنگ (CVS) یعنی بچے کے گرد موجود پانی یا ایمنیوسینٹیسس یعنی نال سے نمونہ لے کر جانچ کرنا ۔

اگر آپ کے بچے کو ایکسومفالوس ہے تو آپ کو آپ کے بچے کی نگرانی کے لیے اضافی الٹراساؤنڈ سکین کی پیشکش کی جائے گی۔ وہ آپ کو آپ کے بچے کی پیدائش سے پہلے اس کی صحت کی مزید تفصیلی نگرانی کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔ ایکسومفالوس والے بچوں کی ماؤں کی عموماً نارمل ولادت ہوتی ہے، لیکن اگر ایکسومفالوس بہت بڑا ہو تو ماہرین کی ٹیم آپ کے ساتھ سیزیرین آپریشن کے بارے میں بات کر سکتی ہے۔

علاج

آپ اور آپ کے بچے کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم میں نوزائیدہ بچوں کے ماہرین اور بچوں کے سرجن جیسے ماہرین شامل ہوں گے، جو آپ کے بچے کی دیکھ بھال کریں گے۔

ایکسومفالوس والے بچوں کو پیدائش کے بعد آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ ایکسومفالوس کے سائز پر منحصر ہوتا ہے۔

اگر پیٹ کی دیوار میں موجود خلا چھوٹا ہو (جسے بعض اوقات “ایکسومفالوس مائنر” کہا جاتا ہے) تو اس میں عموماً صرف آنت کا کچھ حصہ ہوتا ہے اور اسے ایک ہی آپریشن کے ذریعے آسانی سے درست کیا جا سکتا ہے۔ آنت کو پیٹ کے اندر رکھا جاتا ہے اور جلد میں موجود خلا کو بند کر دیا جاتا ہے۔

اگر خلا بہت بڑا ہو (جسے بعض اوقات “ایکسومفالوس میجر” کہا جاتا ہے) تو نال میں جگر کا کچھ حصہ یا پورا جگر بھی موجود ہو سکتا ہے۔ اسے بعض اوقات “ جھلی نما تھیلا “ کہا جاتا ہے۔ ہر 100 بچوں میں سے تقریباً 75 بچوں (%75) کا یہ مسئلہ پیدائش کے فوراً بعد آپریشن کے ذریعے درست کر دیا جاتا ہے۔ اگر جھلی نما تھیلا بڑا ہو اور اس کے اندر موجود اعضا بچے کے پیٹ میں واپس نہ سما سکیں تو سرجن آپ سے اس کے علاج کے مختلف طریقوں کے بارے میں بات کریں گے۔ علاج کے اختیارات میں ابتدائی آپریشن کے ذریعے اسے ایک پلاسٹک کے غلاف (جسے “سائلو” کہا جاتا ہے) میں رکھنا، یا خاص پٹیاں استعمال کرنا اور جلد کو آہستہ آہستہ تھیلی کے اوپر بڑھنے دینا شامل ہیں۔ اس طریقے سے علاج کیے جانے والے بچوں کو بعد میں پیٹ کے پٹھوں میں موجود خلا بند کرنے کے لیے آپریشن کی ضرورت ہوگی۔

ایکسومفالوس والے بعض بچے پیدائش کے بعد عام بچوں کی طرح خوراک نہیں لے سکتے اور شروع میں انہیں ایک خاص نالی کے ذریعے خوراک دی جاتی ہے۔ جو مائیں اپنا دودھ پلانا چاہتی ہیں، وہ اپنا دودھ نکال کر محفوظ کر سکتی ہیں تاکہ جب بچہ خوراک لینے کے قابل ہو جائے تو اسے دیا جا سکے۔

آپ کے بچے کو ہسپتال میں کتنے عرصے تک رہنا پڑے گا، یہ بچے کی حالت پر منحصر ہوتا ہے اور یہ مدت چند دنوں سے لے کر کئی مہینوں تک ہو سکتی ہے۔ یہ مختلف عوامل پر منحصر ہوتا ہے، مثلاً بچے کو کس قسم کے آپریشن کی ضرورت ہے، صحت یابی میں کتنا وقت لگتا ہے، آیا کوئی پیچیدگیاں یا اس سے منسلک طبی مسائل موجود ہیں، بچہ کس طرح خوراک لے رہا ہے، اور کیا اسے سانس لینے میں کسی اضافی مدد کی ضرورت ہے۔ ماہرین کی ٹیم آپ کے انفرادی حالات کے لحاظ سے آپ کو مزید معلومات دینے کے قابل ہوگی۔

طویل مدتی صحت

ایکسومفالوس ایک ایسی حالت ہے جس کی شدت اور شکل مختلف بچوں میں بہت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس کا علاج بعض اوقات نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ دیگر صحت کے مسائل بھی موجود ہوں تو یہ زیادہ پیچیدہ اور سنگین ہو سکتا ہے۔ آپ اور آپ کے بچے کے لیے ممکنہ صورتحال کا انحصار آپ کے ذاتی حالات اور بچے کی مخصوص کیفیت پر ہوگا۔ صورتحال جو بھی ہو ماہرین کی ٹیم آپ کی مدد کرے گی۔

جن بچوں کو صرف ایکسومفالوس ہوتا ہے، ان میں 10 میں سے 9 سے زیادہ (95% سے زائد) مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں۔

زیادہ تر بچے اچھی طرح صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن مکمل صحت یابی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں اگر:

  • ایکسومفالوس بہت بڑا ہو
  • آپ کے بچے کو دیگر جسمانی یا جینیاتی مسائل بھی ہوں
  • آپ کا بچہ اپنی متوقع تاریخِ پیدائش سے کافی پہلے پیدا ہو جائے۔

ایکسومفالوس سے متعلق طویل مدتی مسائل میں خوراک لینے میں دشواری اور سانس لینے کے مسائل شامل ہو سکتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ بہتر ہو جاتے ہیں۔

آپ کے بچے کی دیکھ بھال کرنے والی ماہرین کی ٹیم اپنی پوری کوشش کرے گی کہ:

  • آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دے
  • اگلے اقدامات کی منصوبہ بندی کرنے میں آپ کی مدد کریں

اگلے مراحل اور دستیاب انتخاب

آپ اپنے حمل کے دوران آپ کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم سے اپنے بچے کے ایکسومفالوس اور دستیاب اختیارات کے بارے میں بات کر سکتی ہیں۔ ان میں آپ کا اپنا حمل جاری رکھنا یا اپنا حمل ختم کرنا شامل ہوگا۔ آپ ایکسومفالوس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہ سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں والدین کی مدد کرنے کا تجربہ رکهنے والی کسی  معاون تنظیم   سے بات کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر آپ حمل جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ماہرین کی ٹیم آپ کی مدد کرے گی:

  • اپنی دیکھ بھال اور اپنے بچے کی پیدائش کا منصوبہ بنائیں
  • اپنے بچے کو گھر لے جانے کی تیاری کریں

اگر آپ اپنا حمل ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو آپ کو اس بارے میں معلومات دی جائیں گی کہ اس میں کیا شامل ہے اور آپ کی مدد کیسے کی جائے گی۔ آپ کو اپنے حمل کو کہاں اور کیسے ختم کرنا ہے اس کے انتخاب کی پیشکش کی جانی چاہیے اور آپ اور آپ کے خاندان کے لیے انفرادی مدد فراہم کی جانی چاہیے۔

یہ صرف آپ جانتی ہیں کہ آپ اور آپ کے خاندان کے لیے بہترین فیصلہ کیا ہے۔ آپ جو بھی فیصلہ کریں، آپ کی صحت کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم آپ کی معاونت کرے گی۔

مستقبل کے حمل

اگر آپ مستقبل میں دوبارہ بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں، تو اس بات کا امکان کم ہے کہ اس بچے میں بھی ایکسومفالوس) پیٹ کی دیوار کا نقص( ہو۔

مزید معلومات

اینٹی نیٹل ریزلٹس اینڈ چوائسز (ARC) ایک قومی خیراتی ادارہ ہے جو اسکریننگ اور تشخیص اور حمل جاری رکھنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلے کرنے میں لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

گیسٹروسکیسس، ایکسومفالوس اور ایکسٹروفیز  پیرینٹل سپورٹ گروپ  (GEEPS) والدین کی جانب سے والدین کے لیے چلایا جانے والا ایک معاونتی گروپ ہے۔. یہ برطانیہ میں قائم ہے، لیکن دنیا کے کسی بھی حصے سے والدین کا خیرمقدم کرتا ہے۔

ان والدین کے لیے معلومات جنہیں کوریونک ویلس سیمپلنگ (CVS) یا امنیوسینٹیسس ڈائیاگنوسٹک ٹیسٹ یعنی بچے کی حالت کی تشخیص کے لیے نال یا بچے کے گرد موجود پانی سے نمونہ لے کر جانچ کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے  ۔

یہاں معلوم کریں کہ   NHS انگلینڈ آپ کی اسکریننگ کی معلومات کو کس طرح استعمال اور حفاظت کرتا ہے .

معلوم کریں کہ اسکریننگ سے دستبردار ہونے کا طریقہ کیا ہے۔