نیوزآرٹیکل

برٹش ہائی کمیشن میں شارٹ فلم کمپی ٹیشن کی تقریبِ انعامات

This world location news article was published under the 2010 to 2015 Conservative and Liberal Democrat coalition government

فلم سازی کا شوق رکھنے والوں نے اس مقابلے میں پاکستان کے میٹروپولیٹن شہروں کے علاوہ دیگر شہروں مثلاً ہری پور، جیکب آباد، جامشورو، کوٹری، مظفرآباد اور فیصل آبادسے بھی حصہ لیا ۔

یوکے پاکستان سیلی بریٹنگ کنیکشنز (UK-Pakistan Celebrating Connections) کے شارٹ فلم کمپی ٹیشن (Short Film Competition) آج تکمیل کو پہنچ گئے۔ پُرتکلف تقریبِ انعامات آج برٹش ہائی کمیشن میں قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک کی میزبانی میں منعقد کی گئی۔

اس مقابلے کا انعقاد برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے کیا گیا تھا، جس کے تحت پاکستان بھر سے فلم سازی میں دلچسپی رکھنے والوں کو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات (Celebrating Connections between the UK and Pakistan) کے موضوع کی تخلیقی عکاسی کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ فلم سازی کا شوق رکھنے والوں نے اس مقابلے میں پاکستان کے میٹروپولیٹن شہروں کے علاوہ دیگر شہروں مثلاً ہری پور، جیکب آباد، جامشورو، کوٹری، مظفرآباد اور فیصل آبادسے بھی حصہ لیا ۔

ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی مشہور پاکستانی اور برطانوی شخصیات : تجربہ کار اداکار اور ہنرکدہ کالج آف وژول اینڈ پرفارمنگ آرٹ کے چیئرپرسن جمال شاہ، اور پاکستان میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول پر مشتمل ایک پینل نے مقابلے کے لیے آنے والی فلموں میں سے پانچ کا انتخاب کیا۔

ملک بھر سے اعلٰی فلم ساز، ذرائع ابلاغ کے سرگرم ارکان، فنکار اور سفارت کاروں نے منتخب کردہ پانچ فلموں کی اسکریننگ کی تقریب میں شرکت کی۔

پاکستان میں قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک منتخب شدہ فلم سازوں کو مبارکباد پیش کی اور پاکستانی سینما کے دوبارہ ابھرنے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

“اس تقریب کی میزبانی میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ یہ تقریب پاکستان اور برطانیہ کو قریب کرنے والے تعلقات اور نوجوان فلم سازوں کی صلاحیت کو تسلیم کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔ میں نے مقابلے کے موضوع پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات (Celebrating Connections between the UK and Pakistan) پر ان فنکاروں کی کاوشوں کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ جیسا کہ آج کی اسکریننگ سے واضع ہوا، پاکستانیوں اور برطانیوں کی زندگیاں ہمارے سفر، خاندان، ثقافت، تاریخ، اور طعام پہ مبنی تعلقات سے منسلک ہے۔”

“اس مقابلے کے نوجوان فلم سازوں کا پُرجوش طریقے سے حصہ لینا پاکستانی فلم سازی کی نئی زندگی کا ایک اور ثبوت ہے۔ میں اور میرے ساتھی اس مقابلے میں شریک ہونے والے تمام فلم سازوں کو فلم سازی کی صنعت میں اپنے خوابوں کے حصول کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ نوجوان فلم ساز مستقبل میں آسکر کی بیسٹ فارن لینگویج کیٹگری کے لیے نامزد ہونے والی فلم زندہ بھاگ اور پاکستان کے لیے آسکر جیتنے والی شرمین عبید چنائے جیسی مثالیں قائم کرینگے۔”