Corporate report

مخدوش ممالک:افغانستان- تازہ ترین جائزہ: 31دسمبر2014

Updated 16 October 2014

This was published under the 2010 to 2015 Conservative and Liberal Democrat coalition government

افغانستان

تازہ ترین جائزہ: 31 دسمبر2014ء

ہمیں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بدستورتشویش ہے۔ تاہم، اکتوبرسے دسمبر2014ء کے دوران نئی قومی اتحاد حکومت کی جانب سےانسانی حقوق اورخواتین، آزادئی اظہاراورسرکاری معلومات تک رسائی کے باب میں مثبت پیغامات اورمکالمے میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالیہ معاہدوں کوہمیں ابھی عملی شکل اختیارکرتےاورافغانستان میں تبدیلی آتےدیکھنا ہے۔ کابینہ کا باضابطہ تقررہوئے بغیر، سیاسی، معاشی اورسلامتی کی صورتحال نازک ہے اوراس وجہ سے انسانی حقوق پر توجہ نہیں دی جاسکی ہے۔

انتخابات اورحکومت سازی

اکتوبرمیں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے افغانستان کا دورہ کیااور صدراشرف غنی کوان کے تقررپرمبارکباددی اورنئی حکومت کو درپیش آئندہ مسائل پربات چیت کی۔ صدر اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹو ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ کے درمیان وزارتی تقرریوں پر مذاکرات سست رفتاری سے آگے بڑھے۔ صدر نے موجودہ وزرا کو پہلے عارضی وزیروں کی حیثیت سے مقررکیا تاکہ نومبر کے آخر تک باضابطہ تقرری کا اعلان کیا جاسکے۔ البتہ باضابطہ تقرریوں کی غیرموجودگی میں صدر اشرف غنی نے نائب وزرا کودسمبر 2014ء کے آخرتک عارضی وزرا کے عہدے پرترقی دےدی۔ برطانوی حکومت نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کرحکومت کے اصلاحی ایجنڈا کے نفاذپرتاخیر کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیاہے اورقومی اتحاد حکومت پرسختی سے زور دیا ہےکہ وہ ہنگامی طور پروزرا کا تقرر کرے۔

دیگر امور

یورپی یونین اوراس کے ریاستی اراکین کے صحافیوں پربڑھتے ہوئے تشدد اور آزاد اور خودمختار میڈیاکی ضرورت کے بارے میں18 ستمبرکے بیان کے بعد اکتوبرمیں ڈاکٹر غنی نے اپنے پیش رو کے اس فیصلے کومنسوخ کردیا جو امریکی صحافی میتھیو روزنبرگ کے ملک سے نکالے جانے کے بارے میں تھا۔ صدراشرف غنی نے کہا کہ میتھیو روزنبرگ اور دوسرے رپورٹروں کاافغانستان واپس آنے پرخیرمقدم کیاجائیگا۔اس کے علاوہ دسمبر میں صدر اشرف غنی نے معلومات تک رسائی کے قانون پردستخط کئے جس سے افغان شہریوں کو سرکاری اورغیرسرکاری اداروں کی معلومات تک رسائی ملتی ہے جس کا مقصدحکومت اور غیر سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کی ضمانت ہے۔

اکتوبر میں پانچ افراد کو سزائے موت دے دی گئی کیونکہ افغان اپیل کورٹ نے گزشتہ اگست میں کابل کے پغمان ضلع سے گزرنے والے ایک خاندان کوڈکیتی اورعصمت دری کا نشانہ بنانےپر دی جانے والی سزا کو برقراررکھا تھا۔ یورپی یونین اور اس کے اراکین نے7 ستمبر کو ایک بیان میں اس بھیانک جرم کی مذمت کی تھی اورخواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قومی اتحاد حکومت کی حمایت کی تھی۔ برطانیہ نے یورپی یونین اوراس کے دیگرریاستی اراکین کے ساتھ سزائے موت کی ہر حالت میں مخالفت کو دہرایا ہے۔ صدراشرف غنی نے اس کے بعد400 سزائے موت کیسوں پر نظر ثانی کا وعدہ کیا ہے۔

نومبر2014ء میں خواتین کے خلاف تشددکے لئے اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی بیگم راشدہ منجونے افغانستان کا دورہ کیا۔اس دورے میں برطانوی نائب سفیر رابرٹ چیٹرٹن- ڈکسن نے بیگم منجو سے ملاقات کی۔ دورے کے بعد بیگم منجو نے افغانستان میں خواتین اورلڑکیوں کے بارے میں حقائق اورتناظر پرایک بیان جاری کیا اوران کے دریافت کردہ حقائق کی مکمل رپورٹ جون 2015ء میں شائع ہوگی۔

نومبرمیں افغانستان نے بچوں کی فوج میں بھرتی کو جرم اور بھرتی کی قانونی عمر18 قرار دینے کے لئے ضابطہ منظور کیا۔ یہ ضابطہ قومی اتحاد حکومت کے بچوںکی فوجی بھرتی کےخاتمےکےلئےاقوام متحدہ روڈ میپ پرعمل کی توثیق کے بعد جاری ہوا۔

بیرونس جوائس اینلے نے 23نومبرکوافغانستان میں خواتین کے حقوق اوراختیارات کے فروغ پراوسلو سمپوزیم میں شرکت کی اور تقریر کی شرکت کی اور تقریر کی۔ رپورٹ کے خلاصے نے قومی اتحاد حکومت، افغان شہری معاشرے اور بین الاقوامی برادری کے اس کمٹ منٹ کی توشیق نو کی ہے جو خواتین کے حقوق اور اختیارات کے باب میں کئے گئے ہیں۔ صدر کی اہلیہ رولا غنی نے کلیدی تقریر کی جس میں ایک مستحکم پیغام تھا کہ’‘حقوق کا مطلب ہے ذمے داریاں’‘،اورافغان خواتین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آگے بڑھنے کے لئے معلومات کا تبادلہ کریں۔ بیرونس اینلے بھی افغان خاتون اول رولا غنی، ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے اور افغان ویمنز نیٹ ورک سے ملیں اورخواتین کے حقوق سمیت انسانی حقوق پر تبادلہ خیال کیا۔

افغانستان پرلندن کانفرنس 3سے 4 دسمبر کوہوئی اوراس میں نئی قومی اتحاد حکومت کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیاگیا جہاں وہ افغانستان کے لئے ایک تصورمتعین کرسکے۔انسانی حقوق بشمول حقوق نسواں کانفرنس اعلان اورافغان حکومت کے اصلاحی پیپر خودانحصاری کا تسلیم کرنا : اصلاحات اور تجدیدی شراکت داریوں کا عزم ‘ میں نمایاں جگہ پائی۔ اس پیپر میں خواتین پرتشدد روکنے کے لئےاقدامات کو مستحکم بنانے کے ازسر نو کمٹ منٹ کیاگیا جو خواتین پرتشددکے خاتمے کے قانون پرعملدرآمد، ایک جامع ڈیٹا بیس کی تشکیل جس میں انسانی حقوق اورانصاف کے اداروں کے ربط سے تمام کیس درج ہونگے، خواتین کے لئے قومی معاشی اختیاراتی منصوبے کی تشکیل اور انصاف اور سلامتی شعبوں میں انسانی حقوق کے فروغ کے ذریعے کیا جائیگاجو عدالتی نظام اور انصاف کے طریقہ کارمیں پیشہ ورانہ اہلیت لاکر کیا جائے گا۔ 2015ءمیں افغان حکومت کے لئے اس کے پرعزم اصلاحی پیکیج کا نفاذ ایک چیلنج ہوگا۔

دسمبر میں اقوام متحدہ سلامتی کونسلاقوام متحدہ سلامتی کونسل نے نیٹو (معاہدہ شمالی بحیرہ اوقیانوس معاہدہ) اورقومی اتحاد حکومت کے معاہدے پر اتفاق کا خیر مقدم کیاجو ایک غیر لڑاکا تربیتی، مشاورتی اورتعاون مشن کے قیام کے لئے کیا گیا ہے اورجو جنوری 2015ء میں کارروائی شروع کررہا ہے: آپریشن ریزولیوٹ سپورٹ مشن (Operation Resolute Support Mission)۔ سلامتی کونسل نے مشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے سلامتی کی بہتری کی ضرورت پرزوردیا تاکہ خواتین کے حقوق میں پیش رفت، مسلح تصادم میں بچوں کی حفاظت، خاص طور پر بچوں کی فوج میں بھرتی کا خاتمہ ہوسکے۔

دسمبر7تا10 کے دوران برطانوی سفارتخانے نے’ کابل انسانی حقوق ہفتہ’ کو تعاون فراہم کیاجو اس سال انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں پر توجہ دے رہا ہے۔ اس ہفتے کا اختتام عالمی یوم انسانی حقوق پر ہواجب برطانوی سفیرنے افغانستان میں انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں کی کامیابیوں کا ذکر کیااور حکومت پرزور دیا ان کے تحفظ کا مزید بندوبست کرے۔ اگلے روزاسی مقام پر شہری معاشرے کے تھئیٹرشو پر خودکش حملہ ہواجس میں دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرلی۔ حملے کے بعدصدر اشرف غنی نے ایک تقریرمیں حملے کی مذمت کی اورافغانستان کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ کے اپنے ذاتی عہد کا اعادہ کیا۔

برطانیہ اور یورپی یونین کی رکن ریاستوں کی 2014ء بھر میں پرزور لابنگ کے بعد یورپی یونین نے ‘’ افغانستان: انسانی حقوق دافعین بارے یورپی یونین اور رکن ریاستوں کی مقامی حکمت عملی 2014 10دسمبر کوشائع کی۔ برطانوی حکومت نے اس کی خاکہ نگاری میں مدددی اور مقامی زبانوں میں اس کا ترجمہ کروایا۔ اب ہم یورپی یونین وفد اور دوسری رکن ریاستوں کے ساتھ اس کے عملدرآمد پر کام کررہے ہیں۔ سفارتخانہ ان دافعین سے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتا رہتا ہے اور اس نے یورپی یونین انسانی حقوق دافعین نیٹ ورک کی دسمبر میٹنگ میں بھی شرکت کی۔

برطانوی حکومت نے 11دسمبرکوبرطانوی قومی ایکشن پلان: خواتین، امن اور سلامتی اورسلامتی کونسل قرارداد1325 پرعملدرآمد کا برطانوی پلان یوکے قومی ایکشن پلان برائے خواتین، امن اورسلامتی اورسلامتی کونسل قرارداد 1325پرعملدرآمد کا برطانوی منصوبہ شائع کیا۔عملدرآمدی منصوبے میں ایسی سرگرمیوں کا تعین کیاجن کے ذریعے برطانوی حکومت ان اہداف کی پیش رفت کا جائزہ لے سکے گی جو ہم نے برطانوی قومی ایکشن پلان: خواتین،امن اور سلامتیمیں متعین کئے تھے۔