نیوزآرٹیکل

برطانیہ اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ۔

وزرائے اعظم نے دونوں ممالک میں رہائش پذیر برطانوی اور پاکستانی افراد کی جانب سے دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ادا کیے گئے کردار کو سراہا۔

This was published under the 2010 to 2015 Conservative and Liberal Democrat coalition government

برطانیہ اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ۔

آج وزرائے اعظم محمد نواز شریف اور ڈیوڈ کیمرون نے پاکستان اور برطانیہ کی عظیم تر ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بھرپور تعاون اور تعلقات کے مستقبل پر اپنے اعتماد کا اعادہ کیا۔ دونوں سربراہانِ مملکت ، دونوں ممالک کے عوام کے لیے دوستی میں قربت پیدا کرنے اور فائدہ مند بنانے کے لیے نئی راہوں کے تلاش کرنے پر متفق ہوئے۔ برطانوی وزیرِ اعظم پاکستان میں نئی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہاں کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔ وزیرِ اعظم کیمرون نے ایک مضبوط اور مستحکم جمہوریت کی جانب گامزن پاکستان کے عوام اور اداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان کے مستقبل پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ پاکستان کے اقتصادی مستقبل پر اعتماد اور مروجہ دوستی کا ذکر کرتے ہوئے وزرائے اعظم نے تجارت کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے ڈھائی ارب اسٹرلنگ پائونڈ کے دوطرفہ تجارت کے موجودہ حدف میں اضافہ کرکے 2015 تک اسے تین ارب اسٹرلنگ پائونڈ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔ پاکستان میں سو (100) سے زائد برطانوی کمپنیاں کامیابی کے ساتھ کاروبار میں مصروف ہیں۔ ان میں انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کے شعبے میں موٹ میک ڈونلڈ (Mott MacDonald) ، کنزیومر گڈز میں یونی لیور (Unilever) اور دواسازی کی صنعت میں گلیکسو اسمتھ کلائن (GlaxoSmithKline) شامل ہیں۔ ایک اہم برطانوی کمپنی، اورین انرجی (Orion Energy) نے پاکستان کے قدرتی گیس کے ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے بجلی پیدا کرنے کے لیے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (Pakistan Petroleum Limited – PPL) کے ساتھ مشترکہ معاہدے کی تکمیل کی ہے۔ آنے والے موسمِ خزاں کے دوران لندن میں منعقد ہونے والی دوسری سالانہ تجارتی کانفرنس میں پاکستان میں کاروبار میں مصروف اداروں کی کامیابی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے مزید برطانوی کمپنیوں کو ان کی تقلید کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ دونوں فریق توانائی کے شعبے میں پیش قدمی کی گرم جوشی سے حوصلہ افزائی کرینگے۔ وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے مطلوبہ ماحول کی تشکیل میں اپنی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان کے عوام کے لیے ترقی کی شرح میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی کرکے ایک درخشاں مستقبل کی تشکیل کے لیے اپنے پُرعزم منصوبوں کے بارے میں برطانوی وزیرِ اعظم کیمرون کو آگاہ کیا۔ موجودہ وقت توانائی کے بحران کو حل کرکے تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے کچھ دشوار فیصلے اختیار کرنے کا ایک موقع ہے۔ برطانیہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اضافے اوریورپین یونین کی منڈیوں تک پاکستان کی مزید رسائی کے لیے بین الاقوامی برادری میں اپنا اہم کردار جاری رکھے گا۔ دونوں حکومتیں باقاعدگی سے انحینسڈ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ (Enhanced Strategic Dialogue) کے فریم ورک کے تحت اقتصادی اصلاحات پر بات چیت جاری رکھیں گی۔ برطانیہ اور پاکستان اگلی نسل کو دیکھتے ہوئے ، پاکستانی عوام کو دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے میں مدد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ وزیرِ اعظم محمدنواز شریف نے پاکستان میں معیارِ تعلیم میں بہتری لانے اور اسکولوں میں بچوں کی تعداد بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیم میں تجدید کے لیے برطانیہ کے ساتھ موجود مضبوط شراکت داری کا خیرمقدم کیا۔ وزیرِ اعظم کیمرون نے معاشرے کے غریب ترین افراد کو بااختیار بنانے کے لیے ‘انکم سپورٹ پروگرام’ میں پاکستان کی جانب سے مالی اعانت میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پروگرام کے لیے جاری برطانوی امداد کے عزم کا دوبارہ اظہار کیا۔

وزرائے اعظم نے دونوں ممالک میں رہائش پذیر برطانوی اور پاکستانی افراد کی جانب سے دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ادا کیے گئے کردار کو سراہا۔ وزیرِ اعظم کیمرون نے اعلان کیا کہ برٹش کونسل لاہور میں لائبریری اور کراچی میں ثقافتی مرکز قائم کرے گا۔ برطانیہ اور پاکستان باہمی فائدہ مند طریقوں کو استعمال کرکے عملی تعاون کو مضبوط بناتے ہوئے اپنے تعلقات میں موجود کثیر امکانات سے مکمل طور پر فائدہ اٹھانے کے پابند ہیں۔پاکستان اور برطانیہ کو ایک اٹوٹ شراکت داری میں جوڑنے والے تعلقات ہمیشہ کی طرح مضبوط ہیں۔

وزیرِ اعظم کیمرون نے پاکستان کے عوام کو اتنی قربانیاں دینے کے باوجود دہشت گردوں کی جانب سے تشدد اور دھمکیوں کو واضح طور پر مسترد کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ برطانیہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی بہتر ی کی جانب گامزن حکمتِ عملی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر مہارت فراہم کرے گا۔برطانیہ دھماکہ خیز آلات کی تباہی سے نمٹنے کے لیے مزید سازوسامان فراہم کرکے پاکستان کے انفرااسٹرکچر کے تحفظ کے لیے تعاون کرےگا۔ اس علاوہ کھیلوں کے عظیم الشان مقابلوں کے دوران تحفظ فراہم کرنے کی برطانوی مہارت کا بھی پاکستان کے ساتھ تبادلہ کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری پاکستان انڈیا پیس پراسیس (Pakistan – India Peace Process) کے بارے میں بھی وزیرِ اعظم کیمرون کو آگاہ کیا۔ دونوں وزرائے اعظم نے افغانستان میں امن، استحکام اور سلامتی کی اہمیت پر زور دیا اور ایک افغان قیادت اور افغانیوں کے زیر ملکیت مصالحتی عمل کے لئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

زوردار اور عملی تعاون تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ثقافتی شعبوں میں موجود بڑھتے ہوئے دوطرفہ مواقع کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ آنے والے مہینوں کے دوران ، پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیزاور سیکریٹری آف اسٹیٹ ولیم ہیگ انحینسڈ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ (Enhanced Strategic Dialogue) کے تحت خصوصی اقدامات پر بات چیت کرینگے جن سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اٹوٹ شراکت داری کی اہمیت بھی نمایاں ہوگی۔ دونوں ممالک کے وزراء کے درمیان باقائدگی سے مفصّل بات چیت جاری رہے گی جن میں برطانوی سیکریٹری فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ جسٹین گریننگ (UK Secretary for International Development Justine Greening) ترقی کے لیے برطانوی تعاون پر تبادلہ خیال کرینگے اور ہوم سیکریٹری تھیریسا مے (Home Secretary Theresa May) دوطرفہ فائدہ مند تعاون پر زور دینگی۔ وزیرِ اعظم نواز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان موجود تعاون کے عمل میں مزید اضافہ کرنے کے لیے برطانیہ کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے۔

Published 30 جون 2013